وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سو جاؤ

وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سو جاؤ

ہوئے ہیں ہم تو دیوانے ستارو تم تو سو جاؤ

کہاں تک مجھ سے ہمدردی کہاں تک میری غم خواری

ہزاروں غم ہیں انجانے ستارو تم تو سو جاؤ

گزر جائے گی غم کی رات امیدو تو جاگ اٹھو

سنبھل جائیں گے دیوانے ستارو تم تو سو جاؤ

ہمیں روداد ہستی رات بھر میں ختم کرنی ہے

نہ چھیڑو اور افسانے ستارو تم تو سو جاؤ

ہمارے دیدۂ بے خواب کو تسکین کیا دو گے

ہمیں لوٹا ہے دنیا نے ستارو تم تو سو جاؤ

اسے قابلؔ کی چشم نم سے دیرینہ تعلق ہے

شب غم تم کو کیا جانے ستارو تم تو سو جاؤ

قابل اجمیری

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے