وہ چاہتا ہے تو مشکل میں ڈال دیتا ہے

وہ چاہتا ہے تو مشکل میں ڈال دیتا ہے
عروج دے کے کبھی زوال دیتا ہے

وہ جن کے پاس ہے اخلاص کی بڑی دولت
وہ نیکیوں کو بھی دریا میں ڈال دیتا ہے

جو مر مٹے ہیں وطن کے لئیے یہاں لوگو
زمانہ انکی ہمیشہ مثال دیتا ہے

اگر کرم کی نظر اسکی ہم پہ ہو جائے
وہ زیست سے ہر غم نکل دیتا ہے

اٹھا ہاتھ دعا تو مانگ اے بندے
وہ جب بھی دیتا ہے باکمال دیتا ہے

ھے شکر اسکا عزیز مجھکو میرا خدا
جب بھی دیتا ہے رزق حلال دیتا ہے

افروز عزیز

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے