وقت ہی کم تھا فیصلے کے لیے

وقت ہی کم تھا فیصلے کے لیے
ورنہ میں آتا مشورے کے لیے

تم کو اچھے لگے تو تم رکھ لو
پھول توڑے تھے بیچنے کے لیے

گھنٹوں خاموش رہنا پڑتا ہے
آپ کے ساتھ بولنے کے لیے

سینکڑوں کُنڈیاں لگا رہا ہوں
چند بٹنوں کو کھولنے کے لیے

ایک دیوار باغ سے پہلے
اک دوپٹہ کھلے گلے کے لیے

ترک اپنی فلاح کر دی ہے
اور کیا ہو معاشرے کی لیے

اب میں رستے میں لیٹ جاؤں کیا
جانے والوں کو روکنے کے لیے

لوگ آیات پڑھ کے سوتے ہیں
آپ کے خواب دیکھنے کے لیے

ضیا مذکور

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے