خدا کے ساتھ تعلق بگاڑنے لگا تھا

خدا کے ساتھ تعلق بگاڑنے لگا تھا
وہ اس کو دیکھ کے پتھر تراشنے لگا تھا

مجھے سپاہ کا سالار چن لیا اس نے
میں بادشہ سے ترا ہاتھ مانگنے لگا تھا

کچھ اس طرح کی بلاؤں نے بال کھولے تھے
مجھ ایسا شخص بھی تعویذ باندھنے لگا تھا

پھر ایک بات چچا جان نے بتائی مجھے
میں اپنے باپ کی تلوار بیچنے لگا تھا

کسی نے اس کو بتایا کہ میں مصور ہوں
وگرنہ وہ تو مرے ہاتھ کاٹنے لگا تھا

ضیا مذکور

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی