وہ جس دن سے ہمارا ہو گیا ہے

وہ جس دن سے ہمارا ہو گیا ہے
سبھی کو جاں سے پیارا ہو گیا ہے

مری آنکھوں کی لو میں چلنے والا
وہ جگنو تھا ستارا ہو گیا ہے

جسے دنیا سمجھتی تھی بھنور ہے
سمندر کا کنارا ہو گیا ہے

شریک کارواں دامن سمیٹیں
کہ چلنے کا اشارا ہو گیا ہے

جلا ڈالا ہے اس ارمان کو جو
وہ شعلے سے شرارا ہو گیا ہے

ثمر راحت ثمر

Related posts

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا