ریزہ ریزہ خواب نہ ہوتے

ریزہ ریزہ خواب نہ ہوتے
اشکوں کے گرداب نہ ہوتے

دل کا شیشہ ٹوٹ نہ پاتا
گر لہجے مضراب نہ ہوتے

سکھ کی منزل پاس کھڑی تھی
دکھ کے جو اسباب نہ ہوتے

جینا مشکل ہو جاتا جو
مرنے کے آداب نہ ہوتے

تحریریں بے کیف ہی رہتیں
چاہت کے گر باب نہ ہوتے

ثمر راحت ثمر

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی