کون درد بانٹے گا کون غم اٹھائے گا

کون درد بانٹے گا کون غم اٹھائے گا
اوڑھ لو خموشی تو دل کو چین آئےگا

کس طرح چھپاو گے آنسووں کو آنکھوں میں
ضبط کے تسلسل سے درد بڑھتا جائے گا

ساکنان دل اب تو ہو چلے ہیں اک سپنا
رتجگوں کے موسم میں نیند کون لائے گا

جل اٹھے گی ہر بستی بے شجر زمینوں کی
جب تلک نہ ہر کوئ پیڑ اک لگائے گا

ہر دعا نہیں ہوتی ہے قبول انساں کی
کس طرح جو مانگا ہے وہ ہی مل بھی جائے گا۔

ثمر راحت ثمر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی