ہوا میں جلتے چراغ رکھنا

ہوا میں جلتے چراغ رکھنا
امید شام فراغ رکھنا

نظر میں رکھنا رتوں کی ہلچل
تو فصل گل کے سراغ رکھنا

اگر جلاو وفا کی شمعیں
دعاکے روشن چراغ رکھنا

نہ بھول پاو کسی ستم کو
جلا کے بھی دل کے داغ رکھنا

اندھیرے کا کچھ گلہ نہ کرنا
اندھیری شب میں چراغ رکھنا

ثمر راحت ثمر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا