اس نے کہا

ایک انساں کی حقیقت کیا ہے

زندگی سے اسے نسبت کیا ہے

آندھی اُٹھے تو اُڑا لے جائے

موج بپھرے تو بہا لے جائے

ایک انساں کی حقیقت کیا ہے

ڈگمگائے تو سہارا نہ ملے

سامنے ہو پہ کنا را نہ ملے

ایک انساں کی حقیقت کیا ہے

کُند تلوار قلم کر ڈالے

سرد شعلہ ہی بھسم کر ڈالے

زندگی سے اسے نسبت کیا ہے

ایک انساں کی حقیقت کیا ہے

شکیب جلالی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے