اس سےمجھے تو عشق ہوا، کوئی ایسا ویسا

اس سےمجھے تو عشق ہوا، کوئی ایسا ویسا
زندگی بنتی گئی میری جوا، کوئی ایسا ویسا

کائنات میں بہت قیمتی ہے وہ میرے لیے
لے نہ جائے میرے سوا، کوئی ایسا ویسا

سو کی نہیں ایک سے دو کی گنتی ہے فقط
آ نہ پائے گا ہندسہ تیسرا، کوئی ایسا ویسا

ایک خدا ،ایک محبوب پہ ہے ایماں میرا
نہ محبوب نہ دوسرا خدا،کوئی ایسا ویسا

وہ محبت کی طرف گامزن ہے یہ سن کر
ہم بن گئے اسی کا راستا، کوئی ایسا ویسا

ٹہنیاں وہی جھکتی ہیں جس پہ پھل ہو
پھر وہ ٹہنی سا جھکا، کوئی ایسا ویسا

میں ہو سامنےاورآنکھ اسکی گردش میں
آ بسا کون ایرا غیرا، کوئی ایسا ویسا

یہ تم نے کس کو چن لیا چپکے چپکے
بتاؤ عام ہے خاص یا، کوئی ایسا ویسا

تیرے ہی نام کا سر لگائے بیٹھی ہے تہمینہ
پھر نہ گیت نہ راگ گایا گیا کوئی ایسا ویسا

تہمینہ مرزا

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے