اس نے ہونٹوں سے کھینچ لی سگریٹ

اس نے ہونٹوں سے کھینچ لی سگریٹ
آپ مت پیجیے اجی سگریٹ

اس کو ہچکی سی ایک دم آئی
میرے ہونٹوں سے گر گئی سگریٹ

کتنے چنچل سے لوگ یاد آئے
بعد مدت کے میں نے پی سگریٹ

یاد رکھنا اگر نہ آئے تم
ایک کے بعد دوسری سگریٹ

کیا بھروسہ ہے اس فریبی کا
چھوڑ جائے گا جب بجھی سگریٹ

کش لگاتے رہو یوںہی شہ دلؔ
بجھنے والی ہے زیست کی سگریٹ

شاہ دل شمس

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا