ہو سکے تو آ جاؤ بارشوں کے موسم میں

ہو سکے تو آ جاؤ بارشوں کے موسم میں
دل سے دل ملا جاؤ بارشوں کے موسم میں

بادلوں کا گھیرا ہے ہر طرف اندھیرا ہے
راستہ دکھا جاؤ بارشوں کے موسم میں

گیت بن کے چاہت کا تم ہمارے ہونٹوں پر
ایک بار آ جاؤ بارشوں کے موسم میں

تتلیوں سے پھولوں سے خوش خرام جھونکوں سے
کھیلنا سکھا جاؤ بارشوں کے موسم میں

راکھ ہی نہ ہو جائیں جسم و جاں جدائی میں
فاصلے مٹا جاؤ بارشوں کے موسم میں

دھوپ ہے قیامت کی تن بدن سلگتا ہے
ابر بن کے چھا جاؤ بارشوں کے موسم میں

شاہ دلؔ بھلا دے جو ایک اک غم ہستی
جام وہ پلا جاؤ بارشوں کے موسم میں

شاہ دل شمس

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا