اس کی ادا ادا میں جو سامان برق تھا

اس کی ادا ادا میں جو سامان برق تھا
طاق حریم دل پہ چراغان برق تھا

تھاما تھا کس کی یاد نے طبع رسا کا ہاتھ
جولانئ خیال میں عنوان برق تھا

اُڑتے ہیں جا بجا خس و خاشاک آرزو
یہ دشت دل کبھی رہ جولان برق تھا

جلنے کی آس میں کئی خرمن بکھر گئے
کس سوچ میں یہ دیدہ حیران برق تھا

دیوانہ وار سینہ شب میں اُتر گئی
دست ھوا میں تار گریبان برق تھا

اپنے ہی غم کی آتش پنہاں میں جل بجھے
خرمن پہ اہل درد کے بہتان برق تھا

آنکھوں کے سامنے وہ کب آ کر نکل گئے
جلوہ بقدر جنبش مژگان برق تھا

آخر غم جہاں کی ہوا نے مٹا دیا
داغ جگر کہ سلسلہ جنبان برق تھا

منزہ انور گوئیُندی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا