غم محرومئ جاوید کہاں باقی ہے

غم محرومئ جاوید کہاں باقی ہے
اب تو بس غم کی جگہ غم کا نشاں باقی ہے

دل برباد کچھ ایسا بھی تو برباد نہیں
بجھ چکے شعلے مگر اُن کا دھواں باقی ہے

شب ڈھلی صبح ۂوئی آنکھ کھلی کیوں ابتک
دل و جاں پر اثر خواب گراں باقی ہے

اک گل خشک لٹکتا ہے سر شاخ ابتک
کوئی تو عہد بہاراں کا نشاں باقی ہے

داغ ناکامئ امید کہاں مٹتا ہے
زخم جاتا رہا پر اُس کا نشاں باقی ہے

ایک لحظہ کو وہ آئے بھی گئے بھی لیکن
میری آنکھوں میں ابھی تک وہ نشاں باقی ہے

منزہ انور گوئیندی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا