ہوا کے دوش پہ خوابوں کا در کُھلا رکھنا

ہوا کے دوش پہ خوابوں کا در کُھلا رکھنا
وفا کے نام کا جذبوں میں حوصلہ رکھنا

اگر وہ پوچھ لیں دل کی کہانی، پل بھر کو
تو اپنی آنکھ میں چاہت کا آئینہ رکھنا

گواہ بن کے کھڑے ہیں وفا کے سارے اصول
سو اپنی بات میں ایک اس کا تذکرہ رکھنا

وہی ہیں دستِ رفاقت، وہی ہیں خنجر بھی
سو ہر نظر میں پرکھنے کا زاویہ رکھنا

گواہ ظلم و ستم کے ہزاروں ہوں گے مگر
نداۓ حق کو تو لب پر یونہی سجا رکھنا

ستم کے سامنے جھکنا ہمارا شیوہ نہیں
تو اپنے سامنے قصّہ ء کربلا رکھنا

عذاب وقت کے صحراؤں میں بھٹکتے ہیں
سو اپنے پاؤں تلے روشنی چھپا رکھنا

محبتوں کے سفر میں شکست مل بھی گئی
تو اپنے لب پہ تبسم کا سلسلہ رکھنا

کبھی نہ بیچنا خوابوں کی آبرو ثوبی
کہ ان کے بدلے فقط خاک کا صلہ رکھنا

ثوبیہ راجپوت

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا