اس کے بھی تو ہاتھ میں پیسہ

اس کے بھی تو ہاتھ میں پیسہ ہو سکتا ہے

وہ بھی ظالم دنیا جیسا ہو سکتا ہے

ہو سکتا ہے اس کی بھی کچھ مجبوری ہو

ہو سکتا ہے پیار میں ایسا ہو سکتا ہے

ان کو بھی تو خوابوں کی تعبیر ملی ہے

ہم بھی جیسا سوچیں ویسا ہو سکتا ہے

مجھ کو ٹھکرا کر وہ شاید بھول گیا ہے

کل کو اس کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے

جس کو دیکھ کے تم بھی پتھر بن جاؤ گے

اس کو ذہن میں سوچو کیسا ہو سکتا ہے

تم سے بچھڑے اب تو عرصہ بیت گیا ہے

اب تک سوچ رہا ہوں ایسا ہو سکتا ہے

افسر علی افسر

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل