ان کی پلکوں پہ خواب کیا ٹھہریں

ان کی پلکوں پہ خواب کیا ٹھہریں
جن کی آنکھیں اداس رہتی ہوں

شادمانی کہاں سے آئے , جب
دل کی راہیں اداس رہتی ہوں

عین ممکن ہے روٹھ کر مجھ سے
اس کی بانہیں اداس رہتی ہوں

کون جانے کسی کی یادوں میں
سرد راتیں اداس رہتی ہوں

پھول کِھلتے نہیں کسی صورت
جب ہوائیں اداس رہتی ہوں

اس کی سنتا نہیں کوئی جس کی
داستانیں اداس رہتی ہوں

منزّہ سیّد

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا