آرزوئیں نئی جگاتی ہے

آرزوئیں نئی جگاتی ہے
داستاں جب قریب لاتی ہے

عادتاً بھی اگر وہ روٹھے تو
زندگی مجھ سے روٹھ جاتی ہے

کوئی دستک نہیں سماعت پر
اُس کی آواز پھر بھی آتی ہے

بند کھڑکی پہ پھیلتی بارش
دل کو وحشت زدہ بناتی ہے

کوئی کچھ بھی کہے مگر مجھ کو
صرف تیری کمی ستاتی ہے

اشک لکھتے ہیں داستاں دل کی
یاد تکیے میں مونہہ چھپاتی ہے

جھیل پر جا لگی ہو یا دل پر
کنکری دائرے بناتی ہے

گھیر لیتی یے گردشِ دوراں
جس کو تقدیر آزماتی ہے

زندگی کے نحیف ہاتھوں سے
سانس کی ڈور چھوٹ جاتی ہے

منزّہ سیّد 

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا