اُن کی آمد کا انتظام کریں

اُن کی آمد کا انتظام کریں
تاکہ وہ دل میں ہی قیام کریں

آج الفاظ ہیں خاموشی میں
آپ تصویر سے کلام کریں

بھولنا اُن کو غیرِ ممکن ہے
یاد اب ان کو صبح و شام کریں

وہ گھڑی دیکھ کر یہ کہتی تھیں
اب ملاقات کو تمام کریں

یاد برسوں ہمیں رکھا جاۓ
یوں محبت میں اپنا نام کریں

اور طرح عظیم مشکل ہے
شاعری میں ہی اپنا نام کریں

محمد عظیم

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے