ان کے لبوں پر آ کے مری بات رہ گئی

ان کے لبوں پر آ کے مری بات رہ گئی
انگڑائی لے کے موج خرابات رہ گئی

پھر رخ بدل دیا غم ہستی نے دہر کا
پھر زیر بحث آ کے تری ذات رہ گئی

ہونے کو ان سے سینکڑوں باتیں ہوئیں مگر
جس بات کا گلہ تھا وہی بات رہ گئی

باقیؔ کسی سے ان کی شکایت نہ کر سکے
کچھ یوں بدل کے صورت حالات رہ گئی

باقی صدیقی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے