تمہیں تمہاری نگاہوں سے دیکھنا ہو گا

تمہیں تمہاری نگاہوں سے دیکھنا ہو گا
ہماری آنکھ کو سب کچھ پرانا لگتا ہے

یہیں کہیں پہ کٸی لوگ گم ہوٸے تھے مرے
اسی زمین کے نیچے خزانہ لگتا ہے

میں تم سے دور بھی کچھ دیر رہنا چاہتا ہوں
کہ اب یہ ساتھ مجھے قید خانہ لگتا ہے

عجیب پھول ہیں رومی ہماری بستی کے
کہ ان کو کھلنے میں پورا زمانہ لگتا ہے

علی رومی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی