تشنہ لبی زمین کی پل میں بجھا گئی

تشنہ لبی زمین کی پل میں بجھا گئی
وہ شوخ پانیوں پہ جب ایڑی گھما گئی

ہجرت سے پہلے آخری ہچکی وہ پیڑ کی
بوڑھے کئ پرندوں کی وحشت بڑھا گئی

سورج کی روشنی سے الجھتی ہوئی دراڑ
دیوار کے بھروسے کی نیندیں اڑا گئی

خاموشیوں کا ربط رہا ساتھ ہمسفر
مجھ سے بچھڑ کے دور جہاں تک صدا گئی

بازار میں جب آئی پھٹے پیرہن کے ساتھ
خوش رنگ ملبوسات کی قیمت گرا گئی

آشفتگی کی لہر سے بیزار زندگی
شہرت کے ساتھ سانس کے طعنے کما گئی

ارشاد پھول سچ گئے گلدان میں کہیں
تتلی نے زہر پی لیا اور صبر کھا گئی

ارشاد نیازی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی