پیٹ بھرنے کا بہانہ دیکھتی ہے

پیٹ بھرنے کا بہانہ دیکھتی ہے
شاعری بھی ،،، آب و دانہ دیکھتی ہے

اس کی خواہش ،،، مر کے زندہ ہورہی ہے
چڑیا اٹھ کر آشیانہ دیکھتی ہے

بند آنکھیں کھل رہی ہیں ،،، اور وہ لڑکی
پیر صاحب کا نشانہ دیکھتی ہے

جھومتا ہوں ،،، برگ و بار ۔ آتشیں سے
رت مجھے بھی عاشقانہ دیکھتی ہے

گھر کے دروازے نے ،،، آنکھیں پھوڑ لی ہیں
اور کھڑکی طائرانہ دیکھتی ہے

سانپ سے مطلب نہیں ہوتا ،،، چھڑی کو
ناتواں لاٹھی بھی شانہ دیکھتی ہے

زلزلہ زیر ۔ زمیں ہے اور یہ دنیا
پاوں کے نیچے ،،، خزانہ دیکھتی ہے

عاطف کمال رانا

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی