تم ثروت کو پڑھتی ہو

تم ثروت کو پڑھتی ہو

کتنی اچھی لڑکی ہو

بات نہیں سنتی ہو کیوں

غزلیں بھی تو سنتی ہو

کیا رشتہ ہے شاموں سے

سورج کی کیا لگتی ہو

لوگ نہیں ڈرتے رب سے

تم لوگوں سے ڈرتی ہو

میں تو جیتا ہوں تم میں

تم کیوں مجھ پہ مرتی ہو

آدم اور سدھر جائے

تم بھی حد ہی کرتی ہو

کس نے جینز کری ممنوع

پہنو اچھی لگتی ہو

علی زریون

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا