تم کو دیکھا تو کچھ نہ دیکھا پھر

تم کو دیکھا تو کچھ نہ دیکھا پھر
گرچہ آئے تمام دنیا پھر

جو حقیقت ہے وہ حقیقت ہے
پیار کرتے ہیں تم سے، اچھا پھر؟

دیکھ آئے تمام دنیا ہم
کوئی لیکن ملا نہ تم سا پھر

تو نے کی انجمن کی ناقدری
گلی کوچوں میں اب اکیلا پھر

بار ہے بے توجہی دل پر
مہربانو! گلہ نہ کرنا پھر

چل پڑا ہے تو آگے بڑھتا جا
آدھے رستے سے تو نہ الٹا پھر

تو نے دریا کو رد کیا ہے فصیح
اب سمندر کے بیچ پیاسا پھر

شاہین فصیح ربانی

Related posts

امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی