جب ملا وقت کہانی پڑھ لی

جب ملا وقت کہانی پڑھ لی
یا کبھی سبع مثانی پڑھ لی

فقر و فاقہ سے پریشاں ہو کر
آیتِ نقل مکانی پڑھ لی

اب ذرا نظمِ ضعیفی پڑھیے
غزلِ عہدِ جوانی پڑھ لی

رات ناول کی طرح پھیل گئی
شہر نے شام سہانی پڑھ لی

پڑھ نہ پایا جو سمندر کا سکوت
اس نے دریا کی روانی پڑھ لی

مہرباں اب تو محبت ہو جائے
ان گنت اشک فشانی پڑھ لی

اب یقینی ہے کوئی شعر فصیح
سانس نے رات کی رانی پڑھ لی

شاہین فصیح ربانی

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر