تم جان اگر ہو تو رگ جاں بھی تم ہی ہو

تم جان اگر ہو تو رگ جاں بھی تم ہی ہو
اس خانہ ویراں کے مہماں بھی تم ہی ہو

وہ گل ہو خزاں میں بھی جو رہتا ہے شگفتہ
گلشن بھی تم ہی گلستاں بھی تم ہی ہو

وہ جوش جنوں فہم کے جو ہوش اڑادے
اس چاکِ گریباں کا گریباں بھی تم ہی ہو

کس درجہ عجب ہے تیری الفت کا سفر بھی
دشمن بھی تمہیں اور نگہبان بھی تم ہی ہو

تم نے ہی قید کیا مجھے حال جنوں میں
اور حال میرے دیکھ کے حیراں بھی تم ہی ہو

تم چھوڑ گئے تنہا مجھے راہ سفر میں
اور میرے بھٹکنے پہ پریشاں بھی تم ہی ہو

کیوں خانہ دل میرا منورؔ نہیں کرتے
جب روشنی شمع شبستان بھی تم ہی ہو

سیّدہ منوّر جہاں منوّر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا