تجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہے

تجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہے

یہ دشت مجھے نیا نہیں ہے

میں کون سے دور میں ہوں زندہ

یہ راز ابھی کھلا نہیں ہے

جو مجھ کو تری طرف بلائے

وہ عشق ابھی ہوا نہیں ہے

میں وقت سے پہلے آ گیا ہوں

یہ وقت ابھی مرا نہیں ہے

سب اپنی کہانی کہہ رہے ہیں

کاغذ پہ تو کچھ لکھا نہیں ہے

یہ آگ جلی ہوئی ہے کیسے

جب اس میں کوئی جلا نہیں ہے

میرا تو قبیلہ کھو چکا ہے

لیکن تو مجھے ملا نہیں ہے

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے