ٹُوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹُوٹے

ٹُوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹُوٹے
کہ جِسے دیکھ کے ہر دیکھنے والا ٹُوٹے
۔
تُو اِسے کس کے بھروسے پہ نہیں کات رہی ؟؟
چرخ کو دیکھنے والی !! ترا چرخہ ٹُوٹے !!
۔
اپنے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹے کب تک ؟؟
ایک انسان کی خاطر کوئی کِتنا ٹُوٹے ؟؟
۔
کوئی ٹکڑا تری آنکھوں میں نہ چُبھ جائے کہیں
دُور ہو جا کہ مرے خواب کا شیشہ ٹُوٹے
۔
میں کسی اور کو سوچوں تو مجھے ہوش آئے
میں کسی اور کو دیکھوں تو یہ نشّہ ٹُوٹے
۔
رنج ہوتا ہے تو ایسا کہ بتائے نہ بنے
جب کسی اپنے کے باعث کوئی اپنا ٹُوٹے
۔
پاس بیٹھے ہوئے یاروں کو خبر تک نہ ہوئی
ہم کسی بات پہ اِس درجہ انوکھا ٹُوٹے
۔
اِتنی جلدی تو سنبھلنے کی توقّع نہ کرو !!
وقت ہی کِتنا ہوا ہے مرا سپنا ٹُوٹے
۔
داد کی بھِیک نہ مانگ !! اے مرے اچھے شاعر !!
جا تُجھے میری دُعا ہے ترا کاسہ ٹُوٹے
۔
ورنہ کب تک لیے پھِرتا رہوں اِس کو جوّاد
کوئی صورت ہو کہ اُمّید سے رِشتہ ٹُوٹے

جواد شیخ

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

1 تبصرہ

طارق اقبال حاوی اپریل 26, 2020 - 6:24 صبح
بہت شاندار کلام
Add Comment