توبہ ہزار بار مری لب کشائی سے

توبہ ہزار بار مری لب کشائی سے
زخم آشنائی بڑھنے لگے آشنائی سے

اعجازِ نغمگی ہے مرا سرخ زمزمہ
پیدا نئے جہان ہوں معجز غِنائی سے

ہر اک وَرَق صحیفہ ہے تحریرِ درد کا
سرشار حرف حرف ہے عقدہ کشائی سے

جب التفاتِ یار میں ہوتا ہوں غوطہ زن
ہیرے اچھالتا ہوں میں بحرِ حنائی سے

قائم ہوئی ہے ضعفِ بصیرت سے مستقل
مستقبلِ دوامی تری رہنمائی سے

پُر سوز پُر گداز مری سر نوشت کی
ہر سطر ہے حرارہ حریق آشنائی سے

ایسا ہے ایک اشک جگر سوز جاں بلب
پتھر گداز کر دے جو معجز نمائی سے

اے سرّ نادرانہ تعادل نہ کر سکی
درویشی ہو کہ شاہی تری بے نوائی سے

کچھ رند آب کش ہیں تری بزمِ نور میں
جامؔی کو جو عزیز ہیں ساری خدائی سے

شاہ محمود جامؔی
سیالکوٹ پاکستان

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی