ہم نے دشتِ شوق میں یوں بھی شب گزاری کی
کشتِ ہجرِ یار کی خوں سے آبیاری کی
حسنِ عینِ حسن ہے بے نیاز و بے عِناں
قرضِ عشقِ یار میں ہم نے زخمِ کاری کی
یہ اصولِ عشق ہے خُسرَوی ملے اسے
راہِ ذوق و شوق میں جس نے خاکساری کی
اضطرابِ شوق نے سرخروئے جاں کِیا
دل نے آہ ضبط کی ہم نے آنکھ بھاری کی
لوحِ عشق پر رَقَم نقشِ یار کر دیا
خوب نقشِ ثبت کی دل نے پاسداری کی
یوں سَفَر کا حق ادا راہِ یار میں کِیا
خوں رگوں کا سینچ کر رسمِ راہداری کی
وہ نظر نہ پائے گی لطفِ حسنِ جاوداں
قلبِ رُوسِیاہ سے جس نے پائداری کی
اب سرشکِ سرخ سے تر ہے روئے شرمگیں
کچھ تو آنکھ نے ادا رسمِ شرمساری کی
اے دلِ ستم زدہ رک ذرا سکوں طلب
آخری گھڑی ہے یہ جاں میں خلفشاری کی
جامؔیِ حزیں اُسے جاں خراج کیجئے
جس نے راہِ عشق میں رسمِ خون جاری کی
شاہ محمود جامؔی
سیالکوٹ پاکستان