آلودہ و کثیف ہے اعمالِ زِشت سے

آلودہ و کثیف ہے اعمالِ زِشت سے
ہوں مُرتَفَع دُرُشت دلِ بد سرِشت سے

اچھا ہوا شعور گیا عقل و دل گئے
کچھ بوجھ کم ہوا ہے کتابِ نوِشت سے

ہے اختتامِ عمر، کہ خواہش کے چار بت
نکلے نہیں ہنوز فتیلِ کُنِشت سے

ویراں پڑی ہوئی ہے حضور آپ کے بغیر
پیغام روز آتے ہیں مجھ کو بہِشت سے

اسرارِ بے خودی کسی احمق سے چھیڑنا
خود پیٹنا جگر کا ہے جوں سنگ و خشت سے

رہتا ہے ایک مجھ میں کوئی اضطراری شخص
پِھٹکارتا ہے مجھ کو جو ہیجانِ ہِشت سے

کیوں کر جگر ہو دردِ حقیقی سے آشنا
گِریہ اگر کِیا نہ ہو چشمِ اَنگِشت سے

جب سے کسی فقیر کی صحبت عطا ہوئی
اٹھے سبھی حجاب نگاہِ پَلِشت سے

مَیں اور تُو کا فاصلہ افسوس صد ہزار
جامؔی سے طے ہوا نہ جو کم تھا بِلِشت سے

شاہ محمود جامؔی
سیالکوٹ پاکستان

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا