جب سوئے طیبہ تخیل کا سفَر ہوتا ہے

جب سوئے طیبہ تخیل کا سفَر ہوتا ہے
آنکھ کے دشت میں دریا کا گزَر ہوتا ہے

موئے آتش پہ ٹھہرنا ہے پلک پر جیسے
نعت کہنے میں ادب تیغ سِپَر ہوتا ہے

نعت سرکار کی ایسے ہے اترتی مجھ پر
زرد ٹہنی پہ کوئی جیسے ثمَر ہوتا ہے

نیند میں ایسا بھی ہوتا ہے مرے ساتھ اکثر
آنکھ کُھلتی ہے تو سرکار کا دَر ہوتا ہے

رحمتِ حق بھی اُسی سَمْت سفر کرتی ہے
وہ رُخِ مَنْبَعِ اَنوَار جِدَھر ہوتا ہے

میری دستار کا ہر پیچ یہ کہتا ہے مجھے
لائقِ نعت سرا دار پہ سَر ہوتا ہے

اُس سے ملتا ہوں تو آتی ہے مہک طیبہ کی
دلِ عاشق بھی تو سرکار کا گَھر ہوتا ہے

جُز حُسَین اور حَسَن کوئی بھی سردارِ بَہِشت
ہو کے دکھلائے مری جان اگَر ہوتا ہے

میں چراغِ بنی ہاشم ہوں سو میرے گھر میں
عشقِ سرکار ہی مِیراثِ پِدَر ہوتا ہے

شعر مَرْغُوب فَرِشتوں میں اگر ہو جامؔی
پھر وہ سرکار کا مَنظُورِ نَظَر ہوتا ہے

شاہ محمود جامؔی
سیالکوٹ پاکستان

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی