تری جدائی میں یہ دل

تری جدائی میں یہ دل بہت دکھی تو نہیں

کہ اس کے واسطے یہ رت کوئی نئی تو نہیں

تم اپنے اپنے لگے تھے وگرنہ آنکھوں میں

اک اور خواب سجانے کی تاب تھی تو نہیں

تمہارے لب پہ کھلا ہے تو وعدہ ہے تسلیم

وگرنہ اپنے بھروسے کی تم رہی تو نہیں

ترے بغیر نہ جینے کا عہد پورا کیا

ترے بغیر جو کاٹی وہ زندگی تو نہیں

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے وہ نہیں ہے وہ

مگر کبھی کبھی لگتا ہے وہ وہی تو نہیں

سید کاشف رضا

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے