ترے بعد جو خلا ہے

ترے بعد جو خلا ہے
مرے واسطے بلا ہے

مری آنکھ کا دیا تھا
وہ جو شخص جا چکا ہے

ترے بعد زندگی سے
مجھے قرض مل رہا ہے

مجھے پھر سے آکے مل لو
مرا درد گھٹ رہا ہے

مجھے دو نہ اب تسلّی
مرا درد لا دوا ہے

وہ جو درد کا سبب تھا
وہی درد کی دوا ہے

کسی عکس کے مقابل
کھڑا ہاتھ مل رہا ہے

میری نیند اُڑ گئی ہے
مرا راستہ بڑا ہے

ترے نام کا حوالہ
مرے ساتھ چل رہا ہے

اویس خالد

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی