طپش سے رات کی جوں توں کے جی سنبھالا ہے

طپش سے رات کی جوں توں کے جی سنبھالا ہے
نہیں ہے دل کوئی دشمن بغل میں پالا ہے

حنا سے یار کا پنجہ نہیں ہے گل کے رنگ
ہمارے ان نے کلیجوں میں ہاتھ ڈالا ہے

گیا ہے پیش لے اعجاز عشق سے فرہاد
وگرنہ خس نے کہیں بھی پہاڑ ٹالا ہے

سنا ہے گریۂ خونیں پہ یہ نہیں دیکھا
لہو کا ہر گھڑی آنکھوں کے آگے نالا ہے

رہے خیال نہ کیوں ایسے ماہ طلعت کا
اندھیرے گھر کا ہمارے وہی اجالا ہے

دلوں کو کہتے ہیں ہوتی ہے راہ آپس میں
طریق عشق بھی عالم سے کچھ نرالا ہے

ہزار بار گھڑی بھر میں میر مرتے ہیں
انھوں نے زندگی کا ڈھب نیا نکالا ہے

میر تقی میر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے