طلوعِ صبحِ درخشاں، فروغِ حسنِ بہار

طلوعِ صبحِ درخشاں، فروغِ حسنِ بہار
ترے لبوں کا تبسم، تری نظر کا خمار

نہ تیرے درد کی آہٹ، نہ میرے وہم کا شور
بہت دنوں سے ہے ویراں غزل کی راہ گزار

مزاجِ وقت کی تالیف عین ممکن ہے
گراں نہ گزرے تو ان کاکلوں کو اور سنوار

خوشی سے چھین لے میری متاعِ فکر مگر
مرے بدن سے یہ ملبوسِ عافیت نہ اتار

خود اپنے فکر کی پستی پہ دسترس ہے مجھے
بلندیوں کا خدا بن کے مجھ کو یوں نہ پکار

وہ ماہتاب کہاں چھپ گیا کہ جس نے ابھی
رخِ حیات کو بخشا تھا چاندنی کا نکھار

ترا مزاج کہ تو میرِ کارواں ہے ابھی
مرا نصیب کہ پایا ہے راستوں کا غبار

چلو کہ چل کے تماشائے فصلِ گل دیکھیں
کہ جل رہے ہیں ابھی جنگلوں میں سرخ چنار

ہزار بار گری برق شہر پر محسنؔ
کسی کے جسم پہ چمکے نہ پھول رنگ شرار

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے