سر تال ہے پر تار میں وہ تان نہیں ہے

سر تال ہے پر تار میں وہ تان نہیں ہے
جانان تری باتوں میں اب جان نہیں ہے

دن رات لہو تھوکنا آسان نہیں ہے
پر ان دنوں اس فن کا قدر دان نہیں ہے

انصاف کرو ناصحو، یہ قوس تو دیکھو
کیا تم میں کوئی صاحبِ ایمان نہیں ہے

اس حوصلے کی داد کوئی دے بھی تو کیا دے
اس حال میں بھی یزداں پشیمان نہیں ہے

الفاظ پہ کچھ غور ہو لہجے پہ توجہ
یہ طرزِ بیاں آپ کے شایان نہیں ہے

نیند آئی مگر جھولی رہی خالی کی خالی
آنکھوں میں کسی خواب کا سامان نہیں ہے

لکھنو کے اُسی مرثیہ خواں کو ہی بلا
کہتے ہیں کہ برسات کا امکان نہیں ہے

اس واسطے ہوں خیمہ نشیں دشت میں آ کر
کوئی کہہ نہیں سکتا ترا دالان نہیں ہے

لازم ہے لہو بول کے تصدیق بھی کر دے
اک ورقِ سیہ حجت و برہان نہیں ہے

 

کلیم باسط

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے