شب ہے، مگر افق پہ ستارہ نہیں کوئی

شب ہے، مگر افق پہ ستارہ نہیں کوئی
ہم ہیں ، ہمارے ساتھ ہمارا نہیں کوئی

مانا مرا خدا پہ اجارہ نہیں کوئی
پر کیا کروں کہ مفت میں لیتا نہیں کوئی

یہ معجزہ بھی دیکھا ہے مفلس نے بارہا
وہ مائلِ کرم ہیں ، تقاضا نہیں کوئی

دل کو دکھائے مصلحتاً خواب وصل کے
گرچہ کنایہ، موقع، اشارہ نہیں کوئی

عاشق، رقیب، ناصح و معشوق سب فریب
ان صاحبانِ دل میں بھی اچھا نہیں کوئی

کچھ دیر چپّو اور چلائیں تو کس لیے
اس بحرِ زندگی کا کنارہ نہیں کوئی

سب اہتمامِ جام و سبو رائیگاں گیا
دامِ حواس و ہوش سے نکلا نہیں کوئی

وہ جوش، ولولے و تلاطم ہَوا ہُوئے
اب زندگی کو موت کا کھٹکا نہیں کوئی

اولادیں اپنے پرکھوں سے بہتر ہیں آج کل
ان کے لیے صحیفہ بھی اترا نہیں کوئی

اچھا ہوا کہ وقت سے پہلے نکل گئے
وہ آفتیں پڑیں ہیں کہ بچتا نہیں کوئی

تم نے وبا کو کس لیے سر پر چڑھا لیا
کچھ دیر بات کرنے سے مرتا نہیں کوئی

کلیم باسط

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا