سخن سنورتا رہا اور چراغ جلتا رہا

سخن سنورتا رہا اور چراغ جلتا رہا
سمے گزرتا رہا اور چراغ جلتا رہا

ہوائیں آتی رہیں اور طواف کرتی رہیں
میں رقص کرتا رہا اور چراغ جلتا رہا

وہ عکس ڈھلتا رہا اک چراغ کی لَو میں
وہ نقش اُبھرتا رہا اور چراغ جلتا رہا

کئی جگہ سے تھی خالی وہ داستاں، جس میں
میں رنگ بھرتا رہا اور چراغ جلتا رہا

نشہ اُترتا رہا روشنی کے دریا میں
نشہ اُترتا رہا اور چراغ جلتا رہا

یقین بڑھتا رہا، لال روشنی پہ یقیں
گماں گزرتا رہا اور چراغ جلتا رہا

سید کامی شاہ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے