سوچوں دن رات

سوچوں میں دن رات
اظہار سے فرق نہیں
بیان کرنے سے الجھن دن رات
یہ زندگی بھی کس موڈ کھڑا کر گئی
ساتء تیرا وقت کا تقاضا
مری زندگی کا حصول کیا
چلنا بس یوں ندی کی دھار
لے جاے زندگی جہاں
گلہ کیوں کریں رب سے
رب مجھ پر مہربان یوں
زندگی کا صلہ ملا نہیں
اپنوں سے بس گلہ ھے یہ
کام بس دن رات دیکھنا
چڑیوں کا یوں چہکنا
پھولوں کا یوں مہکنا
مری زندگی میں خوشیوں کا
کہاں گیا وہ آشیاں مرا
جہاں تھی مری راہ گزر

خدیجہ آغا

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے