سوچ رہا ہوں اکثر

سوچ رہا ہوں اکثر ایسا کیوں ہوتا ہے
اس سے لڑ کر خود سے جھگڑا کیوں ہوتا ہے

جس سے بچھڑ کر اپنی جان پہ بن آتی ہے
کوئی آخر اتنا اپنا کیوں ہوتا ہے

دل نے قسم جب خاموشی کی کھائی ہوئ ہے
اندر اتنا شور شرابہ کیوں ہوتا ہے

جب میری تقدیر اندھیروں سے لکّھی ہے
پھر گھر میں ہر روز سویرا کیوں ہوتا ہے

یارب جنکا ملنا ہی تقدیر نہیں ہے
ان لوگوں سے یاد کا رشتہ کیوں ہوتا ہے

ایک دیے کا جلنا ار نہ جلنا ہی کیا
تیز ہوا کو اتنا صدمہ کیوں ہوتا ہے

طارق قمر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان