غزل کے اشعار

بڑی حویلی کے تقسیم جب اجالےہوئے
جو بے چراغ تھے وہ بھی چراغ والے ہوئے

دھویں کے ساتھ لہو کی مہک بھی آتی ہے
حویلیوں کے چراغوں میں خون جلتا ہے

شریف زادے پرانے اصول توڑتے ہیں
بوقتِ شام حویلی میں پھول توڑتے ہیں

ڈاکٹر طارق قمر

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل