دریا بپھر گئے ہیں

دریا بپھر گئے ہیں اور زندگی ڈوب رہی ہے

بارش کے موسم میں بادل جب حد سے بڑھ جائیں تو فطرت انسان کو اس کی حدیں یاد دلاتی ہے۔ اس برس بھی بادل اُمنڈے تو دریاؤں کی ریت بدل گئی؛ بہتے پانی نے اپنی صدیوں پرانی راہیں چھوڑ کر بستیاں چن لیں، کھیتوں سے اپنا حصہ زیادہ مانگ لیا اور گھروں کے صحن تک پہنچ آیا۔ ایک طرف پہاڑوں سے اترتے فلیش فلڈز کا شور ہے، دوسری طرف میدانوں میں پھیلتی ہوئی طغیانی کی خاموش تباہی۔ ان دونوں کے بیچ میں وہ لوگ ہیں جن کے نام نہ اخبارات کی شہ سرخیوں میں آتے ہیں نہ نیوز کانفرنسوں میں—وہ کسان جنہوں نے بیج بوئے، وہ خواتین جنہوں نے چولہوں کی راکھ سے کل کے کھانے کا حساب رکھا، وہ بچے جن کی تختیاں اور بستے اب پانی کے بہاؤ میں کہیں گم ہو چکے ہیں۔ اس غیر معمولی برسات کے بعد جو منظر سامنے ہے وہ محض ایک موسمی حادثہ نہیں، وہ برسوں کی کوتاہیوں، غیر سنجیدہ منصوبہ بندی اور سرحدوں کے اُس پار سے آنے والی آبی سیاست کا بھی بیان ہے۔ یہ کالم اسی بحران کی روداد ہے—پانی کی زبان، انسان کی بے بسی، اور ریاستی ذمہ داری کے اُس گوشے کا آئینہ جس پر دُھول جمع ہو چکی ہے۔

دریائے راوی اس پورے سانحے کی علامت بن کر ابھرا ہے۔ لاہور کے ساتھ اس کا رشتہ محض جغرافیہ نہیں، تہذیب ہے؛ شاعروں نے اس کے کناروں پر مصرعے تراشے، فنکاروں نے اس کے رنگوں سے شہر کی تصویریں بنائیں۔ مگر اس برس راوی نے محبت نہیں، اندیشے بانٹے ہیں۔ بارشوں کی بے ترتیبی، اوپر کی سمت سے اچانک چھوڑا گیا پانی اور برسوں کی نالہ بندی و تجاوزات نے مل کر ایسی صورت بنا دی کہ شاہدرہ سے نیچے تک کناروں کی آنکھیں دہک اُٹھیں۔ دیہی حلقوں میں کچے گھر منٹوں میں زمین بوس ہوتے رہے، مویشیوں کے باڑے ٹوٹے تو کسان اپنے آخری اثاثے کو رسیوں سے کھینچتے رہ گئے۔ لاہور کے نواح میں جہاں جہاں راوی کی سانس تیز ہوئی وہاں انتظامیہ کے وسائل بھی ہانپنے لگے—کبھی ایک بندھ کے اوپر پانی چڑھ جاتا، کبھی کسی کٹاؤ نے مقامی سڑک نگل لی۔ حقیقت یہ ہے کہ راوی کے ساتھ شہری ترقی نے جو کچھ کیا ہے وہ پانی کے راستے میں رکھا ہوا وہی فرنیچر ہے جسے بارش کے پہلے جھٹکے میں سب سے پہلے بہنا ہوتا ہے۔ برسوں سے کہی جاتی باتیں—سیلابی میدانوں سے تجاوزات ہٹاؤ، آبی گزرگاہیں کھولو، وارننگ سسٹم جدید بناؤ—کاغذوں پر لکھی رہیں، پانی نے اُن کاغذوں کو بھی منہ زور لہروں میں بہا دیا۔

پنجاب کے دوسرے دریا بھی چپ نہیں رہے۔ چناب اور جہلم کی کہانی میں برسوں سے ایک سا موڑ آتا ہے: اوپر پہاڑوں میں بارش بڑھے تو یہ دونوں بہنیں ہاتھ پکڑ کر میدانوں کی طرف دوڑ لگاتی ہیں۔ اس دوڑ میں اُن کے سامنے کون سا گاؤں ہے، کس کسان کے کھیت میں کتنی اُمید بوئی گئی تھی، کس اسکول کے باہر صبح کی اسمبلی ہونے والی تھی—اس کا حساب پانی نہیں رکھتا۔ وسطی پنجاب کے اضلاع میں کھڑی فصلیں پانی کے پہلے ہی ہفتے میں گھٹنوں تک ڈوب گئیں۔ جن علاقوں نے 2014 اور 2022 میں بھی اسی زخم کا نمک چکھا تھا، وہاں لوگ اپنے ماضی کی تصویروں پر تازہ پانی کی چھینٹیں دیکھتے ہوئے کہتے رہے: "ہمیں معلوم تھا، مگر ہم کچھ نہ کر سکے۔” یہ جملہ صرف اُن کا نہیں، ہم سب کا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ سیلاب ریت پر لکھی کتاب ہے—جیسے ہی پانی آتا ہے، وہ جوابات مٹا دیتا ہے جن کے سوال ہم نے کبھی درست انداز میں پوچھے ہی نہیں۔

اب آئیے اُس دریا کی طرف جسے سرحدی موسموں کی کھڑکی کہا جاتا ہے—ستلج۔ یہ دریا جب مسکراتا ہے تو صحرائی پٹّے تک نمی کی خوش خبری لے جاتا ہے، اور جب بپھرتا ہے تو جنوبی پنجاب کے سینے پر نمک جاگ اٹھتا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ستلج کے بہاؤ نے وہ کڑی دکھائی جس میں پانی صرف پانی نہیں رہتا، وہ سیاست بھی بن جاتا ہے۔ اوپر کی سمت سے اچانک چھوڑا گیا پانی نیچے آتے آتے نہ صرف حفاظتی پشتوں کو آزمانے لگا بلکہ مقامی آبادی کے صبر کو بھی۔ بہاول نگر کی پٹی—خاص طور پر چشتیاں کے گردونواح—میں پانی نے گلیوں کے نام ڈبو دیے۔ وہاں جہاں کھیتوں میں کپاس کی گانٹھیں سفید امید بن کر جھلملاتی تھیں، اب کیچڑ میں اَٹھی ڈنڈیاں رہ گئی ہیں؛ جہاں گاؤں کے واحد کلینک کے باہر شام کے وقت مریض لائن بناتے تھے، وہاں اب کشتیوں کی طنابیں بندھی ہیں۔ میرا اپنا تعلق چونکہ چشتیاں ضلع بہاول نگر سے ہے، اس لیے اس منظر میں الفاظ سے پہلے خاموشی بولتی ہے۔ میں نے اپنے لوگوں کو کاندھوں پر بزرگوں کو بٹھائے اونچے ٹیلوں کی طرف جاتے دیکھا، نوجوانوں کو ٹریکٹر ٹرالیاں عارضی کشتیوں میں بدلتے دیکھا، ماؤں کو بچوں کے بستے سینے سے لگائے پانی کی طرف حیرت سے دیکھتے دیکھا۔ ستلج اُس دن صرف دریا نہیں تھا؛ وہ آئینہ تھا جس میں ہم سب کی کوتاہیاں، ہماری کمزوریاں اور ہماری دیرینہ بے نیازی صاف نظر آ رہی تھی۔

خیبر پختونخواہ کے پہاڑوں نے اس برس جو آہ و زاری سنی وہ بھی کم دل ہلا دینے والی نہیں۔ بونیر، سوات، شانگلہ، دیر، مانسہرہ—یہ نام جب موسم اچھا ہو تو سیاحت کی یاد دلاتے ہیں؛ جب موسم بگڑ جائے تو خبریں بن جاتے ہیں۔ فلیش فلڈز کی کہانی میں چند منٹوں کی بارش ہوتی ہے اور صدیوں کی آبادی لرز جاتی ہے۔ کہیں نالہ کل رات تک محض ایک نرم سی لکیر تھا، صبح ہوتے ہوتے وہی لکیر خشمگیں ناگ بن کر پل نگل جاتی ہے۔ پہاڑی راستے معمولی سی لینڈ سلائیڈ سے گھنٹوں نہیں، دنوں بند رہتے ہیں، ایک وادی سے دوسری وادی تک خبر بھی پانی کے کنارے بیٹھ کر سانس لیتی ہے۔ امدادی ہیلی کاپٹر جب اُڑتا ہے تو ماؤں کی آنکھوں میں امید جگمگاتی ہے، مگر آندھی، دھند اور تنگ فضائی راستے اس امید کا دامن کتر دیتے ہیں۔ یہاں نقصان صرف مکانوں کا نہیں ہوا، زندگی کے نقشے بگڑے ہیں: چھوٹے اسکول جہاں دو کمروں میں بڑے خواب سجتے تھے، وہ کمرے اب پتھروں کے ڈھیر ہیں؛ مقامی ہسپتال جن کے پاس پہلے ہی وسائل کم تھے، اب وہی کمبل کئی مریضوں میں بٹ رہا ہے۔ پہاڑوں کی یہ صدا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ فلیش فلڈ صرف خبر نہیں، طرزِ بود و باش کا سوال ہے؛ جنگلات کی کٹائی، بے ہنگم سڑکیں، نالہ بندی اور مٹی کی تھکن مل کر جب پانی کو راستہ نہ دیں تو پانی راستہ خود بنا لیتا ہے—اور تب راستے کے بیچ جو کچھ آئے، وہ مٹ جاتا ہے۔

اس سب کے بعد نظریں جنوب کی طرف اٹھتی ہیں جہاں سندھ اپنی وسعتوں سمیت کھڑا ہے۔ سندھ کا میدان اس خصوصیت کے ساتھ آتا ہے کہ یہاں پانی آ جائے تو جلد اترتا نہیں؛ نشیبی زمینیں پانی کو تھام لیتی ہیں اور اس تھامنے میں گھروں کے صحن، کھیتوں کے قطعات، مویشیوں کے باڑوں اور اسکولوں کے آنگن بھی بے بس شریک ہو جاتے ہیں۔ گڈو، سکھر، کوٹری—یہ صرف بیراجوں کے نام نہیں، جنوبی پاکستان کی دھڑکنیں ہیں۔ جب بہاؤ اوپر سے پَھڑکتا ہوا پہنچے تو یہ دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں۔ اگر لہریں اپنے مزاج پر رہیں تو دھان کے کھیتوں میں ہریالی دیر سے مگر لوٹ آتی ہے، اگر لہریں ضد میں آ جائیں تو کچے کے علاقے ہفتوں، کبھی مہینوں پانی میں پڑے رہتے ہیں۔ اندرونِ سندھ کا مزدور پہلے روزگار کے لیے شہر کا اِتجھا لیتا ہے، پھر جب شہر میں بھی بارش بڑھ جائے تو وہی مزدور پل کے نیچے خالی پیٹ، بھری آنکھوں کے ساتھ کائنات سے سوال کرتا ہے۔ اس برس بھی یہی اندیشہ موجود ہے کہ اگر ریلے صوبہ در صوبہ اپنی شدت برقرار رکھتے ہیں تو یہ نشانہ سندھ ہوگا؛ پھر نہ صرف فصلیں، بلکہ آبی ماحولیاتی نظام—انڈس ڈیلٹا کی زُبان، مینگرووز کے پتے، کھارے پانی اور میٹھے پانی کا وہ نازک توازن—سب پر ایک ہی پانی کی لکیر کھنچ جائے گی۔

اس منظرنامے میں ایک اور دھارا بھی شامل ہے جسے محض ہائیڈرولوجی نہیں کہا جا سکتا: وہ ہے سرحد کے اُس پار سے آنے والی آبی سیاست۔ انڈس واٹرز ٹریٹی کاغذ پر جتنی مضبوط لگے، زمینی سیاست اور موسمی بے ترتیبی کے بیچ وہ اسی وقت تک مؤثر رہتی ہے جب تک فریقین اسے انسانی جان کی حرمت سے جوڑ کر سمجھیں۔ جب اوپر کی سمت ڈیموں کے گیٹ کھلتے ہیں اور نیچے کی سمت وارننگ کی گھنٹی وقت پر نہیں بجتی، تب ایک لمحے کی تکنیکی تدبیر دوسرے لمحے انسانی المیے میں بدل جاتی ہے۔ یہ درست ہے کہ غیر معمولی بارشیں کسی ایک ملک کے اختیار میں نہیں، مگر غیر اعلانیہ یا غیر ہم آہنگی کے ساتھ چھوڑا گیا پانی ہمیشہ نیچے والوں کو زیادہ ڈوبتا ہے۔ یہاں سفارت محض اجلاسوں کا نام نہیں؛ یہ ڈیٹا شیئرنگ، مشترکہ ماڈلنگ، کم از کم اطلاع کے وقت اور مشترکہ مشقوں کی ضرورت کا نام ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس بحث کو بین الاقوامی فورمز پر اخلاقی اور انسانی بنیادوں کے ساتھ اٹھائے؛ یہ صرف آبی تنازع نہیں، انسان کی سانس، کسان کے دانے اور بچے کے دودھ کا سوال ہے۔ پانی اگر ہتھیار بنے گا تو دونوں طرف پیاس بڑھے گی—اور پیاس کے صحرا میں امن کے درخت نہیں اگتے۔

اب بات کرتے ہیں اُس ہاتھ کی جو اس وقت سب سے زیادہ مصروف ہے—ریلیف۔ فوج کے جوان، ریسکیو 1122 کی کشتیاں، مقامی انتظامیہ کے عملے، ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز کے ڈاکٹر، این جی اوز کے رضاکار، اور عام شہری—سب ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر انسانیت کی رسی تھامے کھڑے ہیں۔ کہیں بند سکڑ رہا ہو تو بیلچے چلتے ہیں، کہیں کوئی بزرگ چھت پر پھنسا ہو تو رسیوں کے گرہ بندھے جاتے ہیں، کہیں عورتیں اور بچے تھکن سے چُو ر ہوں تو خیمہ گاڑ دیا جاتا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ خیمہ گھر نہیں ہوتا، خشک راشن چولہے جیسی گرمی نہیں دیتا، اور جراثیم کش گولیاں کنویں کی مٹھاس نہیں بن سکتیں۔ بڑے پیمانے کی نقل مکانی میں سب سے پہلے شناخت بکھرتی ہے—شناختی کارڈ بھٹک جاتے ہیں، سکول کے کاغذ بہہ جاتے ہیں، بیمار کا نسخہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے؛ پھر ریاست کے نظاموں کو بھی متاثرہ شخص کے پیچھے دوڑنا پڑتا ہے۔ اس بار ہمیں ریلیف کے ساتھ رجسٹریشن، موبائل ہیلتھ یونٹس، ویکٹورل ڈیزیز کنٹرول، صاف پانی کے موبائل پلانٹس، جانوروں کے لیے وٹرنری کیمپس، حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے مخصوص سہولیات، اور نفسیاتی مدد کے اسٹیشنز کو بھی اسی درجے کی ترجیح دینی ہوگی۔ ساتھ ہی رضاکاروں کے لیے سادہ مگر فیصلہ کن SOPs—کس علاقے میں داخل ہونا محفوظ ہے، سازوسامان کہاں جمع ہوگا، لاجسٹکس کی کمان کس کے ہاتھ میں ہے—یہ سب کچھ پہلے روز طے ہونا چاہیے، تیسری بارش تک نہیں۔

زرعی معیشت کے تناظر میں یہ سیلاب ماضی کی طرح ایک اور کاری ضرب ہے۔ کپاس کی پٹی میں اگر بُول کھلنے سے پہلے پاؤں تک پانی آ جائے تو پوری ویلیو چین میں بے ترتیبی دوڑ جاتی ہے—جننگ فیکٹریاں رکتی ہیں، ٹیکسٹائل کی پیداواری لائنیں سست پڑتی ہیں، برآمدی آرڈرز کے ڈیڈ لائن ڈگمگاتے ہیں۔ گندم اگر بھٹّی سے پہلے ہی بوائی کا نقشہ بدل دے تو اگلے سال کی روٹی کے گرد ساونڈ ٹریک بدل جاتا ہے—سپورٹ پرائس کا سوال ایک نیا گرہ ڈال دیتا ہے۔ دھان اگر سیلابی پانی کے شور میں اپنا نام کھو دے تو سندھ کی ہاری معیشت خاموشی میں چلی جاتی ہے۔ ایسے میں فوری زرعی بحالی پیکج محض لطیفہ نہیں ہونا چاہیے: بیج اور کھاد کی سبسڈی، زرعی کریڈٹ کی ری شیڈولنگ، مشترکہ مشینری پولز، مٹی کی بحالی کے لیے جیپسم/نامیاتی مادّہ، اور فیلڈ ایڈوائزری کی حقیقی موجودگی—یہ سب اُس لمحے کی ضرورت ہیں جب کسان ہاتھ میں اوزار رکھنے کے بجائے بچوں کا ہاتھ تھامے کیمپ میں بیٹھا ہو۔

ایک پہلو جسے ہم برسوں نظر انداز کرتے آئے ہیں وہ شہری سیلاب کی کہانی ہے۔ لاہور، فیصل آباد، ملتان، پشاور، کراچی—ان سب میں بارش کا ہر نیا ریکارڈ ایک نئے امتحان کی دُہائی دیتا ہے۔ برساتی نالوں کی صفائی مہم فوٹو کھنچوانے سے دو روز پہلے شروع ہو اور تین روز بعد ختم ہو جائے تو پانی تصویر میں قید نہیں ہوتا، گلی میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ اربن ڈرینیج کے ماسٹر پلان، ریچارج ویل، پرمیئیبل پیونگ، گرین روفس، اور "رین فارمز”—یہ سب اصطلاحیں ترقی یافتہ دنیا کی لگتی ہیں، مگر ہمارے شہروں کو بھی انہیں اپنے لغت میں شامل کرنا ہوگا۔ پانی ایک دشمن نہیں، ایک مہمان ہے؛ ہم اس کے لیے بیٹھنے کی جگہ رکھیں گے تو وہ بیٹھے گا، ورنہ وہ خود جگہ بنا لے گا۔

اب رہ گیا وہ سوال جس کا جواب ہر بار مؤخر ہو جاتا ہے: طویل مدتی حکمتِ عملی۔ بند اور بیراج مضبوط کرنا لازم ہے مگر کافی نہیں۔ دریا کے قدرتی فلوڈ پلینز کو بحال کیے بغیر، ندی نالوں کی راہداریوں کو قانونی تحفظ دیے بغیر، جنگلات اور دریائی بفرزون کے بغیر، چھوٹے اور درمیانے ذخائر (جہاں ماحولیاتی بندشیں اجازت دیں) کے بغیر، اور ڈیجیٹل فلوڈ فارکاسٹنگ و ریئل ٹائم ڈیٹا شیئرنگ کے بغیر ہم فقط ہر سال نئی ریت کے تھیلے بھرتے رہیں گے۔ اسکولوں کے نصاب میں بنیادی آفات سے نمٹنے کی تربیت، مقامی سطح پر کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں، تحصیل سطح پر سالانہ موک ڈرلز، اور میڈیا کے ذریعے بروقت مگر غیر سنسنی خیز اطلاعات—یہ سب وہ پیچ ہیں جو ریاستی کمبل میں لگیں گے تو ٹھنڈ کچھ کم ہوگی۔ اور ہاں، تعمیرات کے قواعد میں "ہائی رسک زون” کی سختی، بیمہ منڈیوں کی حوصلہ افزائی تاکہ گھر اور فصل بیمہ کلچر میں آئیں—یہ سب اس لیے کہ اگلی بار جب پانی آئے تو نقصان کا ہندسہ چھوٹا ہو، امید کا قد بڑا۔

یہ پورا منظر اپنی جگہ مگر کالم نگار کے طور پر جب میں ستلج کے کنارے چشتیاں کی طرف دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ زبان سے پہلے خاموشی لکھتی ہے۔ وہاں ایک مائی نے خیمے کے در پر روٹی کا آخری ٹکڑا دو بچوں میں بانٹتے ہوئے مجھ سے پوچھا: "پانی کب اترے گا؟” میں نے جواب میں آسمان دیکھا۔ کسی رضاکار کی گاڑی گزری، اس نے پانی، بسکٹ اور دو دوائیں دیں اور آگے بڑھ گیا۔ میں نے سوچا ریلیف کے قافلے بہت ضروری ہیں مگر اُن کے پیچھے ایک اور قافلہ بھی چلنا چاہیے—نقشہ سازوں، انجینئروں، آبی ماہرین، سماجی کارکنوں، اور مقامی نمائندوں کا—جو واپس جا کر دیہات کے ساتھ مل کر ایسا نقشہ بنائیں جس میں اگلے برس سیلاب آئے تو پانی کے لیے راستہ، انسان کے لیے سہارا، اور ریاست کے لیے اعتبار پہلے سے موجود ہو۔ بسا اوقات مسئلہ وسائل کا کم اور ترجیحات کا زیادہ ہوتا ہے؛ بجٹ کی کتاب میں لائنیں بدلی جا سکتی ہیں اگر ہم نیت کی کتاب میں ایک باب سیلاب کے نام کھول دیں۔

حرفِ آخر یہ کہ پانی دشمن نہیں، استاد ہے—وہ ہمیں ہر سال ایک ہی سبق پڑھاتا ہے کہ راستہ روکو گے تو وہ خود راستہ بنائے گا؛ تم بند مضبوط کرو مگر راستے مت بند کرو؛ وارننگ بروقت دو، اعداد و شمار سچ بولیں، ہمسائے سے وقت پر بات کرو، عوام کو حصّہ دار بناؤ، اور سیلابی میدانو ں کو بازار نہ سمجھو۔ دریاؤں کو سانس لینے دو تو وہ زندگی دیں گے، ان کی سانس روک دو گے تو وہ زندگی ڈبو دیں گے۔ آج راوی کی منہ زور موج، چناب کی گرج، جہلم کی روانی اور ستلج کی سنسناہٹ ہمیں ایک ہی پیغام دے رہی ہے: فیصلے اب کرو، ورنہ اگلی برسات فیصلہ خود کر دے گی۔ اور جب فیصلہ پانی کرتا ہے تو ڈوبتی صرف بستیاں نہیں، ڈوبتا اعتبار بھی ہے—ریاست پر، سماج پر، اور ہمارے اپنے کل پر۔

یوسف صدیقی

Related posts

خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

انجمن پنجاب

تنقید کیا ہے