خواب تصویر کر رہا ہوں میں

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

خود کو تعبیر کر رہا ہوں میں

شب کی تنہائیوں میں چپ بیٹھا

شور تحریر کر رہا ہوں میں

سامعیں میں ہیں صرف دیواریں

اور تقریر کر رہا ہوں میں

خوف ہوں، خواب ہوں کہ دل دوشی

سب کو تسخیر کر رہا ہوں میں

ایم اے دوشی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے