سو اب دیوار کے اندر سے پھر اک در نکالوں گی

سو اب دیوار کے اندر سے پھر اک در نکالوں گی
میں اپنی چشم – بینا سے نۓ منظر نکالوں گی

حسیں خوابوں کی صورت جو مری آنکھوں کی زینت ہیں
زمانہ دیکهتا ہو گا میں وہ گوہر نکالوں گی

تمہارے ہجر کی صورت جو اس سینے کے اندر ہیں
اگر کچھ بن پڑا مجھ سے تو وہ پتهر نکالوں گی

میں خود کو کهینچ لاؤں گی اندهیری رات میں اک دن
انہی تاریک رستوں پر میں اپنا ڈر نکالوں گی

تمہاری دسترس سے جو نکل پائی کسی لمحے
مجھے تم دیکھتے رہنا میں کیسے پر نکالوں گی

سیدہ فرح شاہ

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا