ہجوم۔ عاشقاں اب تک لب۔ دریا سلامت ہے

ہجوم۔ عاشقاں اب تک لب۔ دریا سلامت ہے
ابھی پانی ہے آنکھوں میں ابھی گریہ سلامت ہے

شکستہ ہوں مگر پھر بھی یہ خال و خد نہیں بدلے
خدا کا شکر ہے اب تک مرا چہرہ سلامت ہے

محبت وہ کسوٹی ہے جو فورا جانچ لیتی ہے
کوئی کتنا مکمل ہے کوئی کتنا سلامت ہے

مری غزلیں مری نظمیں،مری صبحیں،مری شامیں
میں جس میں سانس لیتی ہوں وہ ہر رشتہ سلامت ہے

بہت آزار جھیلے ہیں مگر صد شکر ہے پھر بھی
مری آواز قائم ہے میرا لہجہ سلامت ہے

سیدہ فرح شاہ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا