شہر نقشہ بنا ہے مقتل کا

شہر نقشہ بنا ہے مقتل کا
ہو رہا ہے گمان جنگل کا

اور دل کی مراد بر آئی
ایک آنسو کہیں سے کیا ڈھلکا

دل کو قابو میں رکھنا پڑتا ہے
کچھ بھروسہ نہیں ہے پاگل کا

مے کشی میں غرور اچھا نہیں
دیکھ، ساغر کو اور مت چھلکا

ہجر آنکھیں بھی لے اڑا میری
رنگ بھی اڑ گیا ہے کاجل کا

آج پھر سے غزل کہی تو فرح
بوجھ من کا ہوا ہے کچھ ہلکا

سیدہ فرح شاہ

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا