مرے طبیب نے مجھ سے کہا،علاحدہ ہے

مرے طبیب نے مجھ سے کہا،علاحدہ ہے
یہ روگ اور ہے اس کی دوا علاحدہ ہے

وہ ابر- نور وہ رقص- صبا علاحدہ ہے
سو اس کے شہر کی ساری فضا علاحدہ ہے

وہ بے مثال ہے اس کی مثال کوئی نہیں
زمانے بھر سے مرا دل ربا علاحدہ ہے

یہ کائنات ہے دنیائے رنگ و بو لیکن
جمال- یار کی قوس- قزح علاحدہ ہے

فراق- یار کی دیوار میں چنی گئی ہوں
میں پر خلوص تھی میری سزا علاحدہ ہے

سیدہ فرح شاہ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا