ستارہ ایک چلو آسماں سے ٹوٹ گیا

ستارہ ایک چلو آسماں سے ٹوٹ گیا
پیالہ حادثۂ ناگہاں سے ٹوٹ گیا
سفر کی آخری منزل پہ جانے والے گئی
چلا تھا ساتھ کہاں پر کہاں سے ٹوٹ گیا
سمجھ میں کیوں نہیں آتا یہ کیا معمہ ہے
یقیں کا رشتہ اچانک گماں سے ٹوٹ گیا
جو دل کے غار میں تعویذ لکھ کے رکھتا تھا
اُسی کا رابطہ، تسبیح خواں سے ٹوٹ گیا
رہیں گی تم سے خیالات میں ملاقاتیں
بحال سلسلہ ہوگا جہاں سے ٹوٹ گیا
میں تم سے کہہ نہیں پائی تھی ماجرا دل کا
کہ واسطہ ہی مکیں کا مکاں سے ٹوٹ گیا
خزاں کے آنے سے پہلے یہ کیا ہوا نیناں
ہزار رشتۂ گل، گلستاں سے ٹوٹ گیا

فرزانہ نیناں

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے